Welcome to Mera Deen Islam

رب کے بندوں کی رب سے محبت

December 8, 2017
God Love with his people

رب کے بندوں کی رب سے محبت

دنیا و آخرت کی کامیاب رب کو راضی کرنے میں ہے تمام کے تمام انبیاء علیہ السلام اور صحابہ کرام اور اولیاء عظام نے اس نعمت عظمیٰ کو حاصل کیا اپنے رب کو راضی کیا پھر ان پر انعامات کی بارشوں کا نزول ہوا، کامیابی وکامرانی نے ان کے قدموں کو چوما۔ یہ مقام ومرتبہ انہیں رب کی محبت کی وجہ سے ملا جب بندہ کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی ہر بات کوسر تسلیم خم قبول کرتا ہے اور یہ محبت جب رب سے ہوجائے تو پھر رب کہے آگ میں چھلانگ لگا لگا دیتا ہے ، سولی پر چڑھ چڑھ جاتا ہے، آرے کے ساتھ چِر جاچِر جاتا ہے تپتی ریت کے اوپر لیٹ جالیٹ جاتا ہے بچے کے گلے پر چھری چلا چلا دیتا ہے بیت اللہ کوتعمیر کر کر دیتا ہے، اپنے وطن اصلی کو چھوڑ دے چھوڑ دیتا ہے، بچے کو پانی کے حوالے کر کر دیتا ہے ، پھر وہ رب کی رضا خوشنودی و محبت کوحاصل کرنے کے لیے ہر وہ کام کر دیتا ہے جس کا اسے حکم ہوتا ہے۔

اللہ تعالی سے محبت اصل میں وہ مقام ومرتبہ ہے جس کے لئے صالح اور نیک و کار مسلمان آپس میں مقابلہ آرائی اورسعی و جہدکی کرتے ہیں۔ یہ محبت ان کے دلوں اور روح کے لیے غذا کی حیثیت اور ان کی آنکھوں کے لئے ٹھنڈ ک کا باعث ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے محبت ہی وہ زندگی ہے کہ اگر کسی میں نہ ہو تو وہ با وجود زندہ ہونے کے مردہ نعش کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ روشنی ہے کہ اگر کسی میں موجود نہ ہو تو وہ انتہائی تاریکی میں ڈوبا رہے گا۔

وہ شفا اور علاج ہے کہ اگر کسی میں نہ پائی جائے تو وہ بیمار ہے۔ یہ وہ خوشی اور مسرت ہے کہ اگر کوئی اس سے محروم ہوجائے تو وہ دل و دماغ کی بے انتہا تنگی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا رہے گا۔ یہ دراصل عقیدہ اور اعمال صالحہ کی روح ہے ۔جس کے ذریعہ بندہ اللہ سبحانہ وتعالی کی قربت حاصل کرتا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی محبت کی کچھ علامتیں اور اسباب ہیں جو کسی دروازے کی کنجی اور کلیدی نوعیت کی حامل ہیں جو کہ درج ذیل ہیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و رہنمائی کی اتباع و پیروی کرنا اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب میں فرمایا :ترجمہ: کہہ دیجئے ! اگر تم اللہ تعالی سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو(یعنی اسلامی عقیدہ توحید کو قبول کر و، قرآن مجید اور سنت نبویﷺ کی اتباع کرو)، خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے”

مومنین کے تئیں رحمدلی اور نرم گوشہ اختیار کرنا اور اللہ تعالی کے ماسوا کسی سے نہ ڈرنا اللہ تعالی نے مومنین کی ان خصوصیات کا ذکر ایک ہی آیت میں فرمادیا: ترجمہ:”اے ایمان والو!تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالی بہت جلد ایسی قوم کو لے آئے گا۔ جو اللہ کی مجبوب ہوگی اوروہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہوں گے مسلمانوں پرسخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے، یہ ہے اللہ تعالی کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالی بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے (سورة المائدہ آیت 54) اس آیت میں اللہ تعالی نے اس سے محبت کرنے والے مومنین کی خصوصی صفات کو واضح کردیا اور جس میں ان کی سب سے پہلی خوبی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے تئیں انتہائی نرم گوشہ رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ کبھی کسی طرح کی ترش روی اور سخت گیری کار ویہ اختیار نہیں کرتے ، اس کے برعکس وہ کفار کے خلاف( ان کے کفر و شرک کی نجاستوں کی بنا پر ) سخت گیر ہوتے ہیں اور ان کے روبروکبھی بھی ذلت و خواری اور عاجزی کا اظہار نہیں کرتے۔

اللہ تعالی سے محبت رکھنے والے اس کی خوشنودی کی خاطر کفر و شرک کے تمام شیاطین اور فاسقین کے خلاف جہد مسلسل کرتے رہتے ہیں۔ نیز وہ خود اپنی نفسانی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے بھی (جہاد بالنفس) جدوجہد کرتے ہیں۔ انہیں کسی ملامت گر کی ملامت کا کوئی خوف نہیں رہتا کیونکہ جب وہ اپنے مذہبی و دینی احکامات کی پیروی کرتے ہیں، انہیں نہ کسی تمسخر کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی کسی ملامت کا خوف لاحق ہوتا ہے
نفلی عبادات ادا کرناسیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی ا سے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے(یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج ، زکوة ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعدنفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا ن بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاوٴں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا ترددنہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔وہ تو موت کوبوجہ تکلیف جسمانی کوپسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برالگتا ہے۔ نفلی عبادات میں نفلی نمازیں، صدقات و خیرات عمرہ حج اور روزہ شامل ہیں۔ اس حدیث قدسی میں اللہ تعالی کی اپنے بندوں سے محبت کے کئی فوائد ذکر کئے گئے ہیں جیسے:
میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ یعنی وہ اپنے کانوں سے وہی سنتاہے جو اللہ تعالیٰ کومحبوب ہے۔اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے یعنی وہ اپنی آنکھوں سے صرف وہی حلال چیزیں دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ یعنی اس کے ہاتھ ان کاموں کی جانب اٹھتے ہی نہیں جو اللہ تعالی کی پند کے خلاف ہوں۔ . “اس کے قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتاہے یعنی وہ اپنے قدم ان کاموں کی جانب اٹھاتا ہی نہیں جو اللہ تعالی کو پسند نہ ہوں۔پھر مجھ سے کچھ مانگے میں اسے یقینا ضروردوں گا یعنی میں اس کی دعاؤں اور مطالبات کو ضرور پورا کروں گا۔

اللہ تعالی کی رضا خوشنودی کے لئے باہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنا اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنا ،
ایک دوسرے کی( معاشی)مدد کرنا اور انہیں مفید مشورے دینا ان خصوصی صفات کو پیغمبر اسلام محمدﷺ نے ایک ہی حدیث قدسی میں جمع فرما دیا کہ جس میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ “میں ان دو افراد کو اپنی محبت کی ضمانت دیتا ہوں جو میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوں ؛ میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے کی( معاشی) مدد کرتے ہوں اور جنہوں نے میری خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیاہو۔ایک دوسرے سے اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کے لئے ملاقات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی با ہمی ملاقا تیں اور محبت اللہ تعالی کی رضا کے حصول یا اس کی عبادت میں باہمی تعاون کی غرض سے ہوتی ہیں۔رحمن کارحم اور ماں کی رحمدلی
ایک ماں اپنے بچے کے لئے کتنی رحم دل ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔اور میرا اللہ اس سے بھی بہت بڑھ کر اپنے بندوں پررحم کرنے والاہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی خدمت میں کچھ قیدی لائے گئے اور قیدیوں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی اس نے قیدیوں میں اپنے بچے کو پایا اس نے اسے اٹھا کر اپنی چھاتی سے لگایا اور اسے دودھ پلانا شروع کردیا۔رسول اللہﷺ نے ہمیں فرمایا”تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے عرض کیا“ اللہ کی قسم! جہاں تک اس کی قدرت ہوئی ہے اسے نہیں پھینکے گی۔ تو رسول اللہﷺنے فرمایا اس عورت کے اپنے بچے پررحم کرنے سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پررحم فرمانے والا ہے (صحیح مسلم) یہ ایک انسان کے رحم کی مثال ہے اور دنیا کی تمام مخلوق سے زیادہ اللہ اپنے بندوں سے محبت اور رحم کرتا ہے یہ بندوں کی بد بختی ہے کہ وہ اللہ سے محبت نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے حکموں کی تابعداری کرتے ہیں پھربھی اللہ پنے رحم وکرم سے بندوں کو نوازتا ہے۔میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ رہتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے اکیلے ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی گروہ میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے۔میری رحمت گزبھر اس کے قریب ہو جاتی ہے اور اگر وہ گزبھر میرے قریب ہوتا ہے تو میری رحمت دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اس کے قریب ہو جاتی ہے اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میری رحمت دوڑ کر اس کی طرف جاتی ہے(سبحان اللہ)
۔ آزمائشوں میں جلا کیا جانا
کسی انسان پر نازل ہونے والے سخت مصائب و مشکلات اور آسمانی آفات دراصل ابتلاو آزمائش کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ اللہ تعالی اس شخص سے محبت رکھتا ہے کیونکہ ایک طرح انسانی نفوس کا تزکیہ اور علاج ہے۔جس کے سخت نا گوار اور تکلیف دہ ہونے کے باوجود کے آپ اس کے آگے بے بس اور اس کو گوارا کرنے پر مجبور ہیں اوراپنے کسی عزیزترین فرد کے لئے بھی اس نا گوار چیز کو گوارا کر لیتے ہے۔ اللہ تعالی کی ذات مقدسہ اپنی مخلوق کے اوصاف و خصائص سب سے زیادہ واقف ہے۔ ایک صحیح حدیث میں مروی ہے، آپﷺ نے فرمایا ” جس قدر آزمائش عظیم ہوگئی، اس کے مطابق جزا دی جائے گی، جب اللہ تعالی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور جو کوئی ان آزمائشوں میں پورا اترتا ہے، اس کو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل ہوجاتی ہے اور جو شکوہ و شکایت کرتا ہے تو وہ اس کے شدیدغضب کا شکار ہوجاتا ہے۔مومن کا مصائب اور مشکلات میں مبتلا ہونا اس سے کہیں بہتر ہے کہ آخرت میں اس کے لئے سخت ترین عذاب تیار کیا جائے۔ دوسری جانب وہ لوگ کس قدر خوش نصیب ہوں گے جو دنیوی زندگی میں مصائب و آلام میں مبتلارہے اور قیامت کے دن انہیں اس حال میں اٹھایا جائے کہ ان کے سارے بر ے اعمال مٹادیئے گئے ہوں آپ صلی علیہ وسلم نے فرمایا “جب اللہ تعالی اپنے بندہ کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو دنیا میں اس پر مصائب نازل کرتا ہے اور جب وہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو بندہ کو اس کے گناہوں میں ڈھیل د ے دیتا ہے یہانتک کہ اس کو اس کے گناہوں کے ساتھ قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے۔علما کرام نے ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ جن افراد سے مصائب و آلام اور آزمائشوں کو روک دیا گیا، وہ مشرکین ہیں کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی مشرکین سے اپنا عذاب روکے رکھتا ہے تا کہ روز قیامت میں ان کے گناہوں کی سزا دے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالی سے ہمیشہ دعا گور ہیں کہ اے اللہ میں ان لوگوں میں سے بنادے جن سے تو محبت رکھتا ہے۔ یقینا کامیاب وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں رب کی محبت سما جاتی ہے اور رب تعالی ان سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اللہ پاک ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمادے جو رب تعالی کے محبوب ترین بندے اور بی پاکﷺ کے بہترین امتیہوں ۔ آمین