Welcome to Mera Deen Islam

سادگی مسلمان کے لیے باعث رحمت ہے‘وجہ عار نہیں

December 8, 2017
simplicity in islam

سادگی مسلمان کے لیے باعث رحمت ہے‘وجہ عار نہیں

انسان اس دنیا میں عارضی وقت کے لئے آیا ہے یہ اس کا ٹھکانہ نہیں مسافر خانہ ہے بعض مسافر اس دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں حلال و حرام کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور دنیا کمانے کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے ہیں نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کی تربیت اس انداز میں کی تھی کہ انہوں نے ہمیشہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دی آپ کی تربیت کے بے شمارواقعات صحابہ کرام اور اسلاف کی زندگیوں میں نظر آتے ہیں آج طبقہ مترفین مال مست اور اقتدار پرست بن چکا ہے انہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے کہ یہ امت مسلمہ کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں آنحضورﷺ نے اپنے صحابہ کی جو تربیت فرمائی تھی اس نے ایک مثالی معاشرہ تاریخ انسانی میں قائم کیا جو آج بھی بینظیر ہے دولت صحابہ کے پاس بھی تھی مگر وہ دولت کے پجاری نہیں تھے ان کی حکومت تین براعظموں میں پھیلی ہوئی تھی مگر وہ اللہ کے محبوب بندے مجسم عجزوانکسار اور غرور و پندار سے یکسر بیگانی وہ بیزار تھے آنحضور ﷺ کی تربیت اور مدرسہ نبوی کا فیضان تھے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جن کی دولت سخاوت اور فیاضی ضرب المثل تھی خلیفہ بننے کے بعد ایسی سادہ زندگی گزارنے لگے تھے کہ کپڑوں کے صرف دو جوڑے زیر استعمال رہتے تھے ایک دھلنے کے لیے اُتارتے تو دوسرا پہن لیتے سواری کے لئے صرفر دو اونٹ رکھے ہوئے تھے جو مدینہ سے مکہ کے سفر اور واپسی کے لیے استعمال ہوتے تھے باقی ساری دولت راہِ خدا میں صرف کردی تھی ایک وسیع و عریض سلطنت کے حکمران اس خلیفہ راشد نے اپنی شہادت سے پہلے اپنے مکان کی چھت ست شرپسند لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اپنی زندگی کا کہ پہلوان کے سامنے نمایاں کیا تو کوئی ایک مخالف بھی اس کی نفی نہ کرسکا تھا سیدنا عثمان بن غفان رضی اللہ عنہ کو آنحضورﷺ نے غنی کا خطاب دیا تھا اور آپﷺ واقعی سلطنت غنا کے تاجدار تھے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سادگی و فقر کی راہوں پر چلنا عالی ہمت لوگوں ہی کی شان ہوتی ہے سیرت مصطفی کی کرنوں کی جھلک آپﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ رضی اللہ عنہ کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتی ہے یہی جب رسول کا تقاضا اور وفاداری کا ثبوت ہے سیدنا علی بن ابی طالب بھی حکمران تھے مگر پیوند لگے کپڑے زیب تن ہوتے اور نان جویں آپ کی خوراک ہوتی راستے میں کوئی حاجت مند روک کراپنا دکھڑا سنانے لگتا تو دیر تک اس کی بات پوری توجہ سننے اور دادرسی فرماتے کوئی بڑھیا اپنا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ ہوتی تو اس کا بوجھ خود اٹھا لیتے اس کے باوجود اللہ نے ایسا رعب بخشتا تھا کہ کوئی بڑے سے بڑا سورما بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرسکتا تھا انسان کی عزت اور مقام و مرتبہ زرق برق لباس اور ہٹو بچوکے جھوٹے نعروں کا نہیں کردار کامر ہون منت ہوتا آنحضورﷺ کا ایک درا ہے اے اللہ مجھے فقر کی زندگی دے اور اسی حالت میں مجھے دنیا سے بلالے اور روز حشر مجھے مساکین کے ساتھ اٹھا آقاد مولا کے زیر تربیت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ درس خوب یاد کرلیا تھا کہ انسان کا مقام و مرتبہ دولت کی ریل پیل سے نہیں بلکہ کردار سے متعین ہوتا ہے آپﷺ نے اسی لیے فرمایا کہ۔

ترجمہ:ہم رب جبار کی تقسیم رزق پر دل و جان خوش ہیں ۔ہمیں اطمنیان ہے کہ ہمارے مقدر میں علم ہے اور جبلا کی تجوریوں میں مال و زر ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے خلافت راشدہ کے ملوکیت میں بدل جانے کے بعد ملوکیت کو پھر خلافت راشدہ میں تبدیل کردیا آپ تابع بھی ہیں اور بہت بڑے مجدد بھی آپ نے بنو امیہ کے شاہی خاندان میں آنکھ کھولی آپ کا داد امروان حکمران تھا آپ کا تایا اور سسر عبدالملک بن مروان بھی وقت کا بادشاہ تھا آپ کے چار سالے بھی حکمران ہوئے ولید بن عبدالملک و سلیمان بن عبدالملک آپ کے بعد حکمرانی کی مسند پر براجمان ہوئے سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد جب بار حکومت آپ کے کندھوں پر آن پڑا تو آپ نے سب سے پہلے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا تمام ناجائز مراعات بیت المال میں واپس جمع کرادیں خلافت راشدہ کے اس نظام کو زندہ کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن آپ نے پورے شاہی خاندان سے تمام ناجائز جائیدادیں اور مراعات واپس لے کر بیت المال کے حوالے کردیں حضرت عمر ثانی رضی اللہ عنہ کے سیرت نگاروں نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے گھر میں اپنی بچیوں سے ملنے کے لیے ان کے کمرے میں گئے تو بچیوں نے اپنے دوپٹوں کے پلو سے اپنے منہ ڈھانپ لئے خلیفہ راشد نے اس کی وجہ پوچھی تو عرض کیا بابا جان آج خشک روٹی کے ساتھ کوئی سالن دستیاب نہیں تھا ہم نے پیاز کے ساتھ روٹی کھائی ہے جس کی وجہ سے ہمارے منہ سے پیاز کی بساندآرہی ہے اپنی بچیوں کی زبان سے یہ سنتا تھا کہ عمر بن عبدالعزیز کا جی بھر آیا آپ نے بے ساختہ ان کو اپنے بازوﺅں میں لے کر ان سے پیار کیا اور فرمایا میری لخت جگر اگر میں چاہتا تو دنیا بھر کی دولت تمہارے قدموں میں ڈھیر کردیتا مگر اس صورت میں تم بھی اور تمہارا باپ بھی دوزخ کا ایندھن بن جاتے میںنے چاہا کہ ہم دوزخ کی آگ سے بچائیں عظیم باپ کی عظیم بیٹیوں نے یہ سن کر کہا بابا جان ہمیں کوئی شکوہ نہیں ہم اس زندگی پر راضی اور خوش ہیںیہ تھیں اپنے وقت کی شہزادیاں بسا اوقات ایک انسان خود اصلاح و تربیت کی منزلوں سے گزر کر اپنے آپ کو تبدیل کرلیتا ہے مگر اس کے اہل و عیال اگر اسی کے رنگ میں رنگے ہوئے بہ ہوں تم ہر قدم پر مشکلات پیش آتی ہیں نبی مہربان ﷺ کی تعلیمات اور قرآن کے واضح احکام کی روشنی میں اصلاح اہل و عیال کی بڑی اہمیت ہے اور یہی چیز اس مثال سے نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے۔